ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / عالمی خبریں / جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج میں ایک اسسٹٹ ری پروڈکٹو ٹیکنالوجی(اے آر ٹی) اکائی کا قیام

جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج میں ایک اسسٹٹ ری پروڈکٹو ٹیکنالوجی(اے آر ٹی) اکائی کا قیام

Thu, 25 May 2017 21:41:33    S.O. News Service

علی گڑھ25مئی(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج میں آج ایک تاریخی واقعہ کی شکل میں ایک اسسٹٹ ری پروڈکٹو ٹیکنالوجی(اے آر ٹی) کی اکائی قائم کی گئی ہے جس میں آٹھ اوکائٹ ریٹریول، سات جنین کی منتقلی اور تین ٹیسٹیکیولراسپرم، رٹریول کے معاملات کامیابی کے ساتھ انجام دئے گئے۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور نے جنین کی منتقلی کے آٹھویں معاملہ کا ذاتی طور پر معائنہ کیا اور اس عمل میں شامل ڈاکٹروں کی ٹیم کو ہدایات دیں۔واضح ہوکہ پروفیسر طارق منصور خود جے این میڈیکل کالج کے سابق طالب علم اورسینئر استادرہ چکے ہیں اور ڈاکٹروں کی مذکورہ ٹیم کوانہوں نے تربیت بھی دی ہے۔شعبہئ امراضِ نسواں کی سربراہ پروفیسر سیما حکیم اور اے آر ٹی یونٹ انچارج پروفیسر شاہین جنہوں نے ایمس نئی دہلی سے ان وٹرو فرٹیلائزیشن آئی وی ایف ٹیکنالوجی میں تربیت حاصل کی ہے، اس عمل میں شامل تھیں۔ جنین منتقلی کے مذکورہ معاملوں کو آگرہ کے رینبو۔ ان وٹرو فرٹیلائزیشن (آئی وی ایف) مرکز کے تعاون سے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ (پی پی پی)اسکیم کے تحت انجام دیا گیا ہے۔ واضح ہوکہ مذکورہ مرکز کا قیام اے ایم یو کے سابق طلبأ پروفیسر جے دیپ ملہوترا اور پروفیسر نریندر ملہوترا کے ذریعہ کیا گیا ہے۔ پروفیسر جے دیپ ملہوترا جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج میں ری پروڈکٹو میڈیسن کے ایڈجنکٹ فیکلٹی کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں اوران وٹرو فرٹیلائزیشن   (آئی وی ایف) لیبوریٹری کے قیام اور متعلقہ پیرا میڈیکل اسٹاف کو تربیت دینے میں ان کا اہم تعاون رہا ہے۔اس تاریخی عمل میں میڈیکل کالج کی دیگر ڈاکٹرس پروفیسر تمکین خاں، پروفیسر نشاط اختر، پروفیسر نور افشاں سبز پوش، پروفیسر امام بانو، پروفیسر زہرہ محسن، ڈاکٹر نسرین نور، ڈاکٹر دیبا خانم، ڈاکٹر دالیہ رفعت نے بھی میڈیکل ٹیم کو تعاون پیش کیا۔جے این میڈیکل کالج میں مذکورہ ان وٹرو فرٹیلائزیشن(آئی وی ایف) لیبوریٹری کے قیام سے یہ کالج ملک کے ان ممتاز کالجوں کے کلب میں شامل ہوگیا ہے جہاں اسسٹٹ ریپروڈکٹو ٹیکنالوجی کی سہولت دستیاب ہے۔اہم بات یہ ہے کہ اتر پردیش میں بہت کم خرچ پر اس سہولت سے مزین یہ واحد میڈیکل کالج بن گیا ہے جہاں پربندپرجنن تولیدی نالی، انڈومٹ رایوسس،پرائمری اوویرائن فیلیور، پی سی او ڈی وغیرہ طبی مسائل کا شکار خواتین اپنا علاج کراسکیں گی۔ایزو اسپرمیا سے متاثر مرد بھی ٹی ای ایس اے۔آئی سی ایس آئی تکنیک کی مدد سے اب اپنے خود کے مادّہئ تولید سے باپ بن سکتے ہیں۔پروفیسر جے دیپ ملہوترا نے جنین کی منتقلی کے کامیاب مظاہرہ پر اطمینان ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس بات کی خصوصی طور پر مسرت ہے کہ انہوں نے اپنی اس مادرِ علمی سے جو کچھ پایا ہے اس کی مدد سے ہی وہ اپنی مادرِ علمی کا قرض ادا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
 


Share: